8 دسمبر 2012 - 20:30

فلسطین کی اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ نے کہا ہیکہ غزہ کے عوام نے فلسطینی مزاحمت کی حمایت اور ایثاو فداکاری کے ذریعے آٹھ روزہ جنگ میں اسرائیل کو شکست دی ہے / جہاد اسلامی کے رمضان عبداللہ غزہ نہ جاسکے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق خالد مشعل نے غزہ میں، حماس کے قیام کی پچیسویں سالگرہ کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب میں کہا کہ غزہ کی جنگ  میں کامیابی، رام اللہ، قدس اور حیفا میں بھی غاصب عناصر کے مقابلے میں فلسطینی مزاحمت کی کامیابیوں کا سرآغاز ہے۔انہوں نےاس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ غزہ کے شہدا نے آٹھ روزہ جنگ میں غاصب عناصر کے خلاف کامیابی میں اہم کردار ادا کیا ہے کہا کہ تا ابد خون شہدا کا احترام کرنا ضروری ہے اس لئے کہ ان شہدا  نے ہی نے سر زمین فلسطین کے دفاع کے لئے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے اس سرزمین کی تابناک تاریخ میں یادگار اور بیش بہا مقام ومنزلت حاصل کیا ہے۔فلسطین کے قانونی وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ نے بھی آج تحریک حماس کے قیام کی پچیسویں سالگرہ کے جشن میں کہا کہ غاصب اسرائیل نابود ہوجائیگا اور فلسطین کے عوام ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ ان کی سرزمین صہیونیوں کے چنگل میں رہے۔بشکریہ از ریڈیو تہرانواضح رہے کہ صہیونی ریاست نے خالد مشعل کو تو غزہ میں داخلے کی اجازت دے دی مگر اسلامی جہاد تحریک کے سربراہ رمضان عبداللہ کو نہ صرف غزہ میں آنے کی اجازت نہ دی بلکہ انہیں قتل کرنے کی دھمکی بھی دی جس کی بنا پر جہاد اسلام کے سینئر راہنماؤں اور مرکزی شوری نے انہیں غزہ نہ آنے کا مشورہ دیا چنانچہ وہ غزہ نہ جاسکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110